Bayans
Naat
Sheets
Store
Live


Sunnah of Eating
7th April, 2021

Click for Urdu
Download Audio

Comments

07-04-21

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد

حضرت جعفر بن محمد الصادقؓ کہتے ہیں کہ دسترخوان پر بیٹھو تو جلدی مت کرو یعنی اٹھنے کی بلکہ اسے طویل دو کیونکہ اس مختار وقت کو یوں عمر میں شامل نہیں کیا جائے گا یعنی اس کا حساب نہیں ہو گا۔ کیمیائے سعادت

Hadhrat Ja’far bin Muhammad As-Saadiq radhiallah anhu states, “Do not hasten to get up from the dastarkhaan, in fact prolong it because this time will not be counted among the span of life for which one will be accountable.” (Keemya-e-Sa’aadat)

کسی مہمان کا یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی دوسرے کو شریک طعام کرے الا یہ کہ میزبان کی اجازت حاصل کر لے اس لیے کھانے پر حق ملکیت میزبان کو حاصل ہے مہمان کو نہیں۔

A guest does not have the right to bring uninvited guests to a meal unless he has permission from the host. This is because the rightful owner of the food is the host and not the guest.

اگر کچھ لوگ مل کر کھجوریں کھا رہے ہوں تو کوئی شخص ایک لقمے میں دو کھجوریں نہ لے جب تک کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت نہ لےلے۔ بخاری و مسلم

If a few people are eating dates together, then a person should not pick up two dates as one morsel without the permission of his companions. (Bukhari & Muslim)

ایک دفع نبی کریم ﷺ حضرت جعفرؓ کو اپنے ساتھ گھر لے گئے اور گھر والوں سے دریافت کیا کہ اب کچھ کھانے کو ہے؟ گھر والوں نے کہا ہاں ، تین ٹکیاں لائی گئیں جو کھجور کے دسترخوان پر رکھ دی گئیں۔ حضورؐ نے ایک ٹکی اٹھا کر اپنے سامنے رکھی اور ایک ٹکیا ان کے سامنے رکھی اور تیسری ٹکیا اٹھا کر دو ٹکڑے کیے نصف اپنے سامنے رکھا ، نصف ان کے سامنے رکھا پھر فرمایا کوئی سالن ہے؟ عرض کیا گیا تھوڑے سے سرکے کے سوا اور کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اسی کو لے آؤ یہ بہترین سالن ہے۔ حیات الصحابہ

Once the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam took Hadhrat Ja’far radhiallah anhu with him to his home and asked his household if there was any food. The reply came, ‘yes’. Three pieces (of bread) were brought and served on a dastarkhaan made from date-palm leaves. The Prophet sallallahu alayhi wa sallam placed one piece in front of his guest, one in front of himself and he broke the third piece into two equal parts and placed one of the halves in front of his guest and one in front of himself. He then enquired, “Is there any salan (condiment/sauce/soup/curry)?” The reply came, “There is nothing except for some vinegar.” The Prophet sallallahu alayhi wa sallam said, “Bring that, as vinegar is an excellent condiment.” (Hayaat-us-Sahabah)

حضرت سہل بن عبد اللہؒ سے لوگوں نے دریافت کیا کہ قرآن کی اس آیت کا جس میں اللہ تعالٰی عدل اور نیکی کا حکم فرماتا ہے اس کی کیا تفسیر ہے؟ یعنی: إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ ، تو آپ نے فرمایا کہ عدل یہ ہے کہ اپنے ساتھی سے کھانے میں انصاف کرے اور احسان یہ ہے کہ اس کھانے کے لیے اس کو اپنے سے بہتر سمجھے۔

Hadhrat Sahl bin Abdullah rahmatullah alayhi was asked by the people, “What is the tafseer of that verse in the Qur’an in which Allah commands justice and kindness?” They referred to the verse: Innallaha ya’muru bil adli wal ihsaan. He replied, “Justice is to be just when serving food to your companion and Ihsaan (beneficence) is to consider your guest more worthy than yourself of that food.”

جب کھانے میں عمدہ عمدہ چیزیں سامنے آئیں تو انصاف یہ ہے عدل یہ ہے کہ اپنے مہمان کے آگے رکھے اس سے اس کا دل خوش ہو گا۔

When a person has delicious and tasty foods, then to serve those to the guest is justice, as this will cause the heart of the guest to be filled with happiness.

اللہ سبحانہ و تعالٰی ہمیں نبی پاک ﷺ کی خوبصورت حسین سنتوں پہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

I pray to Allah subhana wa ta’ala to grant us the taufeeq to have amal upon the beautiful Sunnah of the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam.
7th Apr, 2021
margin-right:-5px