Bayans
Clips
Naat
Sheets
Store
Live

حقوق کی سنتیں
20th October, 2021

Click for English
Download Audio

Comments

حقوق کی سنتیں RIGHTS IN THE SUNNAH نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ حقوق النفس The Rights of the Self ​ان سب سے پہلا حق، انسان کا اپنے نفس کا ہے۔ ​The first right is that of one’s own Nafs. ​حضرت عبد ﷲ بن عمر و بن العاص سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے مسلسل شب بیداری اور نفل روزہ میں زیادتی کی ممانعت میں فرمایا کہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے۔ بخاری و مسلم ​Hadhrat Abdullah bin Amro bin al-Aas radhiallah anhu narrates that the Blessed Prophet ﷺ forbade continuous Nawaafil fasting and excessive waking in the night and said, “Your body and your eyes have a right over you.” (Bukhari and Muslim) ​اچھی صحت کے لئے آپ ﷺ نے فرمایا، حضرت ابو دردا ءؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: ﷲ تعالیٰ نے بیماری اور دوا، دونوں چیزیں اتاری ہیں۔ اور ہر بیماری کے لئے دوا بھی بنائی۔ اس لئے تم دوا سے علاج کیا کرو اور حرام چیز سے دوا مت کرو۔ ابو داود ​The Prophet ﷺ spoke regarding staying healthy. Hadhrat Abu Darda radhiallah anhu narrates that the Blessed Prophet ﷺ said, “Allah ta’ala has created both disease and medicine and created a medicine for every illness. Hence you should use medicine as a cure but not seek a cure with haraam means.” (Abu Dawud) حقوق الوالدین The Rights of the Parents ​حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانو! اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کیا کرو تا کہ تمہاری اولاد بھی تمہارے ساتھ نیکی سے پیش آئے۔الادب المفرد ​Hadhrat Abu Hurayrah radhiallah anhu narrates that the Blessed Prophet ﷺ said, “O Muslims, be good to your parents, so that your children will be good to you.” (Al-Adab Al-Mufrad) ​جو شخص رزق کی کشادگی اور عمر کی زیادتی کا خواہش مند ہو، اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ مسند احمد ​If a person wishes to expand his sustenance and increase his age, then he joins ties with his kindred and treats his parents with kindness. (Musnad Ahmad) ​کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑا گناہ، ﷲ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نا فرمانی کرنا ہے۔ بخاری و مسلم ​From the big sins, the biggest sin is Shirk (associating partners with Allah) and the disobedience of the parents. (Bukhari & Muslim) ​تین شخص ہیں جن پر ﷲ تعالیٰ نے جنت کو حرام کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک ماں باپ کا نافرمان بھی ہے۔ احمد ​Three are those upon whom paradise is haraam, among them is the one who is disobedient to his parents. (Ahmad) ​ہر گناہ کے بدلے میں عذاب اور ہر جرم کی گرفت کو مواخذ کیا جا سکتا ہے، لیکن ماں باپ کی نا فرمانی کا گناہ ایسا سخت ہے کہ اس کا مواخذہ مرنے سے پہلے ہی کر لیا جاتا ہے۔ حاکم ​There is a punishment for each sin and this justice can be delayed (till the Akhirah). However, the disobedience of the parents is such a grave sin that a person begins to meet the punishment for it before he has even died. (Hakim) ​باپ کے دوستوں کے ساتھ نیکی سے پیش آنا، خود باپ کے ساتھ نیکی سے پیش آنا ہے۔ الادب المفرد ​Be kind towards the friends of your father, for then it is as if you have been kind to your own father. (Al-Adab Al-Mufrad) ​جو آدمی اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد ، ان کا قرض ادا کر دیتا ہے، ان کی مانگی ہوئی منت پوری کر دیتا ہے، وہ اگرچہ زندگی میں ان کا نافرمان رہا ہو، پھر بھی ﷲ کے نزدیک ان کا فرمانبردار سمجھا جائے گا۔ اور جو آدمی اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد نہ ان کا قرض ادا کرتا ہے نہ مانگی ہوئی منت پوری کرتا ہے، وہ اگرچہ زندگی میں ان کا فرمانبردار رہا ہو، پھر بھی ﷲ کے نزدیک ان کا نافرمان سمجھا جائے گا۔ الادب المفرد ​The person who pays the debt of his parents after they have passed away and fulfils their wishes will be considered as an obedient child even if he had been unable to be obedient when they were alive. And that person who refuses to pay the debt of his dead parents and does not carry out their wishes will be considered as disobedient to his parents by Allah despite having been obedient when they were alive. (Al-Adab Al-Mufrad) ​حضرت بحر بن حکیمؒ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے یوں روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲ ﷺ سے دریافت کیا: کہ میں احسان کا معاملہ کس کے ساتھ کروں؟ آپؐ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے پھر پوچھا: کس سے نیکی کروں؟ فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے تیسری مرتبہ پھر اپنا یہی سوال دہرایا تو آپؐ نے پھر فرمایا: ماں کے ساتھ۔ میں نے چوتھی مرتبہ پھر پوچھا: کس سے بھلائی کروں؟ آپؐ نے فرمایا : باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہو ، وہ مقدم ہے. مشکوٰۃ ​Hadhrat Bahr bin Hakeem rahmatullah alayhi relates from his grandfather that he asked the Messenger of Allah ﷺ, “Who is most deserving of goodness from me?” The Prophet ﷺ said, “Your mother.” I asked, “Then who?” The Prophet ﷺ said “Your mother.” I asked again, “Then who?” The Prophet ﷺ said, “Your mother.” The man asked again, “Then who?” The Prophet ﷺ said, “Your father. And then your close relatives.” (Mishkaat) ​حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جس مسلمان کے ماں باپ مسلمان ہیں، اور وہ صبح دم اجر و ثواب کی نیت سے ان کی خدمت میں سلام پرسی کے لئے حاضر ہوتا ہے، تو ﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھول دیتا ہے۔ اور اگر والدین میں سے ایک ہے، تو جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے۔ اور دونوں میں سے کسی ایک کو اس نے ناراض کر دیا، اور غصہ دلایا، تو جب تک وہ راضی اور خوش نہ ہو، ﷲ تعالیٰ بھی خوش نہیں ہوتا ۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا، یعنی: اگر ماں باپ اس پر ظلم کریں تب بھی؟ آپؐ نے فرمایا : ہاں، اگرچہ دونوں اس پر ظلم کریں۔ ​ ​Hadhrat Ibn Abbas radhiallah anhu said, "If any Muslim obeys Allah regarding his parents, Allah will open two gates of Jannah for him. If there is only one parent, then one gate will be opened. If one of them is angry with him, then Allah will not be pleased with him until that parent is pleased with him." He was asked, "Even if they wrong him?" "Even if they wrong him," he replied. ​نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ وہ آدمی ذلیل ہو، وہ آدمی ذلیل ہو، پھر ذلیل ہو۔ لوگوں نے پوچھا: اے خدا کے رسول کون آدمی؟ آپؐ نے فرمایا: وہ آدمی جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، دونوں کو پایا ،یا کسی ایک کو پایا، اور پھر ان کی خدمت نہ کر سکا ، جنت میں داخل نہ ہو سکا۔ مسلم ​The Prophet ﷺ said, “Let him be disgraced! Again, let him be disgraced! Again, let him be disgraced!” It was said, “Who is it, O Messenger of Allah?” The Prophet ﷺ said, “One whose parents reach old age, one or both of them, and he does not enter Paradise by (serving) them.” (Muslim) ​حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو نیک اولاد بھی ماں باپ پر محبت بھری ایک نظر ڈالتی ہے اس کے بدلے ﷲ تعالیٰ اس کو ایک حج مقبول کا ثواب بخشتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ﷲ کے رسول ، اگر کوئی ایک دن میں سو بار اس طرح رحمت اور محبت کی نظر ڈالے؟ آپؐ نے فرمایا : جی ہاں، اگر سو بار ایسا کرے تب بھی ﷲ تعالیٰ بہت بڑا اور بالکل پاک ہے، یعنی کہ وہ سو بار کا بھی ثواب دے گا۔ مسلم ​Hadhrat Ibn Abbas radhiallah anhu narrated that the Prophet ﷺ said: “The pious offspring who casts a single look of affection at his parents receives a reward from Allah equal to the reward of an accepted Hajj.” The people enquired: “O Prophet of Allah ﷺ, if someone casts a hundred such glances in a day of love and affection at his parents, what then?” The Prophet ﷺ said: “Yes, indeed, even if one does so a hundred times a day, he will get a hundred-fold reward. Allah is far greater than you imagine (and there is no limit to His rewarding).” (Muslim) ​ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول ﷲ ﷺ میرے پاس مال ہے اور میرے باپ کو میرے مال کی ضرورت ہے۔ تو رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ : تمہارا مال اور تم اپنے والدین کے لئے ہو۔ بے شک تمہاری اولاد تمہاری پاک کمائی ہے، اس لئے تم اپنی اولاد کی کمائی سے بلا تکلف کھاؤ۔ ابن ماجہ ، ابو داود ​A man came to the Prophet ﷺ and said: “O Messenger of Allah, I have wealth, and my father is in need of it.” He ﷺ, said: “You and your wealth belong to your father. Your children are your pure earnings; hence you are entitled to what they earn.” (Ibn Majah, Abu Dawud) ​ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول ﷲ ﷺ ، کیا والدین کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ سلوک کرنے کی کوئی صورت باقی ہے؟ فرمایا ان کے لئے دعا کرنا، ان کے لئے استغفار کرنا، ان کے مرنے کے بعد انکی وصیت کو پورا کرنا، ان کے قرابت داروں سے صلہ رحمی کرنا۔ محض ان کی قرابت کی وجہ سے کی جائے۔ اور والدین کے دوستوں کی تعظیم کرنا ۔ مشکوٰۃ ، ابو داود ، الادب المفرد ​A man came to the Prophet ﷺ and asked, "O Messenger of Allah! Is there any way to serve the parents after their death?'' He ﷺ replied, "Yes, to pray for them, to supplicate for their forgiveness, to fulfil their promises after their death, to maintain the ties of kinship which cannot be maintained except through them, and to honour their friends.'' (Mishkaat, Abu Dawud & Al-Adab Al-Mufrad) ​حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی بندہ زندگی میں ماں باپ کا نافرمان رہا اور والدین میں سے کسی ایک کا یا دونوں کا اس حال میں انتقال ہو گیا، تو اب اس کو چاہیے کہ اپنے والدین کے لئے برابر دعا کرتا رہے اور ﷲ تعالیٰ سے ان کی بخشش کی درخواست کرتا رہے یہاں تک کہ خدا اس کو اپنی رحمت سے نیک لوگوں میں لکھ دے . بیہقی ​Hadhrat Anas radhiallah anhu relates that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a person was disobedient to his parents when they were alive and either one or both of them passed away, then now he should continue praying for their forgiveness until Allah decides to include him among the pious people.” (Bayhaqi) ​والدین کے انتقال کے بعد، ان کے ملنے والوں سے سلوک اور احسان کیا جائے۔ بخاری ​Maintain the ties of kinship with those people that were acquaintances of your parents after their deaths. (Bukhari) ​رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے باپ کے دوست کا خیال رکھو۔ اس سے قطع تعلق نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی دوستی کے قطع کرنے کی وجہ سے ﷲ تعالیٰ تمہارا نور بجھا دے۔ ​Allah’s Messenger ﷺ said, “Care for your father’s friend. Do not break ties with him lest Allah take away your light.” ​رسول ﷲ ﷺ نے ایک حدیث میں اس طرح ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجے۔ عرض کیا : یا رسول ﷲ ﷺ، کوئی اپنے ماں باپ پر کیا لعنت بھیج سکتا ہے؟ فرمایا اس طرح، کہ جب کوئی کسی کے ماں باپ کو برا بھلا کہے گا تو وہ بھی اس کے ماں باپ کو برا بھلا کہے گا اور دونوں کو برا بھلا کہے گا ۔ بخاری ​In one Hadeeth, the Messenger of Allah ﷺ said, “Verily, one of the major sins is that a man curses his own parents.” It was asked, “O Messenger of Allah ﷺ, how can a man curse his own parents?” The Prophet ﷺ said, “He insults the father of another man and then that man insults his father and his mother.” (Bukhari) شوہر اور بیوی کے حقوق The Rights of A Husband & Wife ​حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان حقوق کے تقسیم میں بھی انصاف فرماتے تھے۔ فرماتے تھے کہ اے ﷲ یہ میری تقسیم ہے، ان چیزوں میں جن پر میرا قابو ہے پس تو مجھے اس چیز میں ملامت نہ کرنا جو خالص تیرے قبضے میں ہے اور میرے قبضے میں نہیں، یعنی محبت۔ ترمذی ​Hadhrat Aisha radhiallah anha said, “Allah’s Messenger ﷺ would divide his visits to his wives equally and say: “O Allah, this is my division concerning what I can control, so please do not hold me accountable for that which is in Your Power alone (meaning love).” (Tirmidhi) ​ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کون سی عورت سب سے اچھی ہے؟ آپؐ نے فرمایا : جو ایسی ہو کہ جب شوہر اس کو دیکھے تو اس کا دل خوش ہو جائے۔ جب اس کو حکم دے تو اس کو بجا لائے اور اپنی ذات اور مال کے بارے میں کوئی ناگوار بات کر کے اس کے خلاف نہ کرے۔ نسائی ​It is narrated by Abu Hurayrah radhiallah anhu that it was said to the Messenger of Allah ﷺ, “Which woman is best?” He replied, “The one who makes her husband happy when he looks at her, obeys him when he commands her, and does not go against his wishes with regard to herself nor wealth.” (Nasai) ​ایک حدیث میں ہے کہ جب شوہر کہیں باہر جائے تو اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر بار اور ہر امانت کی حفاظت کرے۔ سنن ابی داود ​In another Hadeeth there is the additional wording: When her husband is away, she guards and protects the dignity and possessions of her husband. (Sunan Abu Dawud) ​حضرت حکیم بن معاویہؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ ﷺ، ہماری بیوی کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ جیسا تم کھانا کھاؤ اس کو بھی کھلاؤ۔ جیسا کپڑا پہنو، اس کو بھی پہناؤ اور اس کے منہ پر مت مارو۔ اور نہ اس کو برا بھلا سناؤ، اور نہ اس سے ملنا چھوڑو، مگر گھر کے اندر رہ کر۔ ابو داود ​It was narrated from Hakim bin Muawiyah radhiallah anhu, from his father, that a man asked the Prophet ﷺ, “What are the rights of the woman over her husband?” He said, “That he should feed her as he feeds himself and clothe her as he clothes himself; he should not strike her on the face nor disfigure her, and he should not abandon her except in the house (as a form of discipline).” (Abu Dawud) ​حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت اس حال میں وفات پائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش ہو، وہ جنت میں داخل ہو گی۔ ترمذی، مشکوٰۃ ​Hadhrat Umm Salmah radhiallah anha states that the Prophet ﷺ said, “The woman who dies in a state during which her husband is happy with her will enter Paradise.” (Tirmidhi & Mishkaat) ​حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت پر سب سے بڑا حق اس کے شوہر کا ہے۔ اور مرد پر سب سے بڑا حق اس کی ماں کا ہے۔ ​Hadhrat Aisha radhiallah anha relates that the Prophet ﷺ said, “The greatest right upon a woman is that of her husband and the greatest right upon a man is that of his mother.” ​حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ ایک وہ آدمی جو لوگوں پر سرداری کرے اور وہ لوگ اس سے ناراض ہوں۔ دوسری وہ عورت جس کا شوہر اس سے ناراض ہو اور وہ آرام سے پڑی سو رہی ہو۔ اور تیسرا وہ آدمی جو اپنے بھائی سے قطع تعلق کرے ۔ بخاری ​Hadhrat Ibn Abbas radhiallah anhu reported that the Messenger of Allah ﷺ said, “There are three whose prayer is not accepted: a leader who leads the people, but they hate him (because of his bad behaviour), a wife who spends the night sleeping without care while her husband is displeased with her, and two brothers who sever ties.” (Bukhari) ​حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان رکھنے والی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں کسی ایسے شخص کو آنے کی اجازت دے جس کا آنا شوہر کو ناگوار ہو۔ اور وہ گھر سے ایسی صورت میں نکلے جبکہ اس کا نکلنا شوہر کو ناگوار ہو۔ اور عورت شوہر کے معاملے میں کسی کی اطاعت نہ کرے ۔ ​Hadhrat Muadh bin Jabal radhiallah anhu narrates that the Messenger of Allah ﷺ said, “It is not permissible for a believing woman to allow a man to enter her husband’s home if that would displease her husband. And she should not leave the home to go out at a time when her husband would not want her to. And she should not obey others regarding how she should conduct herself with regards to her husband.” ​نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : جب کوئی مرد رات میں اپنی بیوی کو جگاتا ہے اور وہ دونوں مل کر دو رکعات نماز پڑھتے ہیں تو شوہر کا نام ذکر کرنے والوں میں اور بیوی کا نام ذکر کرنے والیوں میں لکھا جاتا ہے۔ ابو داود ​The Messenger of Allah ﷺ said, “When a man wakes his wife in the night and they both pray two raka’at Salaah, then their names are included among the dhakireen of Allah.” (Abu Dawud) ​حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ انصاف اور برابری کا سلوک نہ کیا، تو قیامت کے روز وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گر گیا ہو گا۔ ترمذی ​Hadhrat Abu Hurayrah radhiallah anhu narrates that the Prophet ﷺ said, “If someone has two wives and he does not treat them fairly, he will be resurrected partially paralysed on the Day of Judgment.” (Tirmidhi) ​نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت جب پانچ وقت کی نماز پڑھے، اپنے آبرو کی حفاظت کرے، اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے، وہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔ الترغیب ​The Prophet ﷺ said, “When a woman prays five times a day, guards her dignity and obeys her husband she can enter Jannah from whichever gate she desires.” (At-Targheeb) ​نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ﷲ تعالیٰ قیامت کے روز اس عورت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں گے جو شوہر کی ناشکر گزار ہو گی۔ حالانکہ عورت کسی وقت بھی شوہر سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔ نسائی ​The Prophet ﷺ said, “Allah ta’ala will not look at that woman on the Day of Judgement who is ungrateful towards her husband, even though a wife cannot be totally independent of her husband.” (Nasai)
21st Oct, 2021
margin-right:-5px