Bayans
Clips
Naat
Sheets
Store
Live

غسل کی سنتیں
5th October, 2021

Click for English

Comments

غسل کرنے کا طریقہ The Method for Ghusl پہلے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین مرتبہ دھوئے، پھر بدن پر کسی جگہ ناپا کی یا گندگی لگی ہو تو اس کو تین دفعہ پاک کرے پھر چھوٹا اور بڑا دونوں استنجا کرے خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اس کے بعد مسنون طریقے پر وضو کرے۔ اگر نہانے کا پانی قدموں میں جمع ہو رہا ہو تو پیروں کو نہ دھوئے ، وہاں سے علیحدہ ہونے کے بعد دھوئے ورنہ اس وقت بھی دھو لینا جائز ہے۔ First wash both hands including the wrists three times, then wash away any impurities from the body three times, then do both types of istanja, whether it is needed or not at the time. After that perform wudhu in accordance with the Sunnah. If the bath water begins to gather by your feet, then move to another place to wash your feet although it is still permissible to wash them at that time. اب پانی اول سر پر ڈالے، پھر داہنے کندھے پر پھر باہنے کندھے پر۔ اتنا پانی ڈالے کہ سر سے پاؤں تک پہنچ جائے۔ بدن کو ہاتھوں سے ملے۔ ایک دفعہ دوبارہ اسی طرح پانی ڈالے، پھر سر پر کندھے پر پھر بائیں کندھے پر اور جہاں بدن سوکھے رہنے کا اندیشہ ہو وہاں ہاتھ مل کر پانی بہانے کی کوشش کرے۔ پھر اسی طرح تیسری مرتبہ کرے۔ ترمذی Then pour water over the head, then over the right shoulder and then the left shoulder. Pour enough water that it would fall to the ground from the height of one’s head. Then repeat these steps one more time and wherever one feels that water has not reached, one should wipe his hands over that area to make sure that water reaches that point. Then repeat these steps a third time. (Tirmidhi) غسل کے بعد بدن کو کپڑے سے پونچھنا بھی ثابت ہے اور نہ پونچھنا بھی۔ لہذا دونوں صورتوں میں جو بھی اختیار کرے سنت ہونے کی نیت ہے۔ مشکوٰۃ There is evidence for both drying one’s body after ghusl with a piece of cloth and for not drying. Hence both methods are considered to be from the Sunnah. (Mishkaat) حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دو تین دفعہ دھوتے تھے، اس کے بعد آپؐ مقام استنجا کو بائیں ہاتھ سے دھوتے تھے اور داہنے ہاتھ سے اس پر پانی ڈالتے تھے، اس کے بعد اس کے بعد بائیں ہاتھ کو مٹی سے مل مل کر اور رگڑ رگڑ کر خوب ملتے اور دھوتے تھے۔ پھر اس کے بعد وضو فرماتے تھے جس میں تین تین دفعہ کلی فرماتے۔ ناک میں پانی لے کر اچھی طرح سے صاف کرتے۔ منہ اور ناک کے اندرونی حصے کو غسل دیتے تھے اور حسب عادت ریش مبارک میں خلال کر کے اس کے ایک ایک بال کو غسل دیتے اور بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچاتے۔ Hadhrat Aisha Siddeeqah radhiallah anha and Hadhrat Maymuna radhiallah anha relate that first the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would wash his hands three times. Then he would make istanja with the left hand and then pour water over that area with the right hand. He would use lumps of earth to rub and clean that area. He would wash all the nooks and crannies of the body during ghusl, and it was also his blessed habit to do khilal of the blessed beard and wash it so that water would reach the roots of all its hair. اس کے بعد اسی طرح سر کے بالوں کو اہتمام سے دھوتے تھے۔ ہر بال کو جڑ تک پانی پہنچانے کی کوشش فرماتے۔ اس کے بعد سارے جسم کو غسل دیتے تھے۔ پھر غسل کی اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں کو پھر دھوتے تھے۔ He sallallahu alayhi wa sallam would wash the hair on his blessed head and made sure that water reached the roots of the hair. Then he would wash the rest of the body, and step aside from the ghusl area to wash the feet again. حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا جسم کے ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لیے غسل جنابت میں بالوں کو اچھی طرح دھونا چاہیے تا کہ انسان کے جسم کے ہر حصے میں پانی پہنچ جائے۔ اور ایک ایک بال اور ہر ایک چیز کو صاف کرنا چاہیے۔ سنن ابی داود It has been narrated by Hadhrat Abu Hurayrah radhiallah anhu that Allah’s Messenger sallallahu alayhi wa sallam said, “The effect of janabah (ritual impurity) remains under each hair of the body. Hence one should wash all body hair thoroughly when doing ghusl after janabah and ensure every hair becomes wet with water. It is important to clean in this manner. (Sunan Abi Dawud) حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر حق ہے یعنی ضروری ہے کہ ہفتے کے سات دنوں میں ایک دن یعنی جمعہ کے دن غسل کرے۔ اس میں اپنے سر کے بالوں کو اور سارے جسم کو اچھی طرح دھوئے۔ صحیح بخاری Hadhrat Abu Hurayrah radhiallah anhu narrates that the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam said, “It is incumbent upon every Muslim to have ghusl at least once in seven days and in particular on the day of Jumu’ah.” And during ghusl one should wash the body and hair properly. (Bukhari) حضرت سمرۃ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے تو غسل کرنا افضل ہے۔ مسند احمد، ابو داود و جامع ترمذی Hadhrat Samurah bin Jundub radhiallah anhu relates that Allah’s Messenger sallallahu alayhi wa sallam said, “To perform ghusl on a Friday is superior.” (Ahmad, Abu Dawud & Tirmidhi) جمعہ کے دن نماز فجر کے بعد سے جمعہ تک ان لوگوں کے لیے غسل کرنا سنت ہے جن پر نماز جمعہ واجب ہے۔ It is the Sunnah to perform ghusl between Fajr and Jumu’ah prayers on a Friday for those upon whom Jumu’ah Salaah is wajib (obligatory). عیدین کے دن بعد فجر ان لوگوں کے لیے غسل کرنا سنت ہے جن پر عیدین کی نماز واجب ہے۔ It is the Sunnah to have ghusl after Fajr on the days of the two Eids for those upon whom Eid prayers are wajib. حج یا عمرے کے احرام کے لیے غسل کرنا سنت ہے۔ It is the Sunnah to do ghusl before wearing the Ihraam for Hajj or Umrah. حج کرنے والے کو عرفہ کے دن بعد زوال آفتاب غسل کرنا سنت ہے۔ It is the Sunnah for a pilgrim to do ghusl after zawaal time on the day of Arafah.
9th Oct, 2021
margin-right:-5px