Bayans
Naat
Sheets
Store
Live


کھانے کی سنتیں
4th April, 2021

Click for English
Download Audio

Comments

04-04-21

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد

آپ نبی کریم ﷺ اپنے مہمانوں سے کھانے کے لیے اصرار فرماتے اور بار بار کہتے یہاں تک کہ ایک شخص نے قسم کھا کر کہا کے قسم ہے اس خدائے برتر کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب اور گنجائش نہیں رہی۔ بخاری ، مدارج النبوت

The Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam would encourage his guests to eat and would do so repeatedly. To the extent that once, a person said, “By Allah the Most-High who sent you with the Truth, I have no more room left (to eat). (Bukhari & Madaarij-un-Nabuwwat)

اگر کسی مجمع میں کھانا تناول فرماتے تو آپؐ سب سے آخر میں اٹھتے کیونکہ بعض آدمی دیر تک کھاتے رہنے کے عادی ہوتے ہیں اور آپؐ ایسے لوگوں کا ساتھ دیتے اور آپ ﷺ ان کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کھانا کھاتے رہتے۔ زاد المعاد ، ابن ماجہ ، مشکوٰۃ

When eating in a gathering, the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would be the last to get up. Since some people have the habit of eating (slowly) for a long time, the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would give them company and eat (slowly) with them in small amounts. (Zaad-ul-Ma’aad, Ibn Majah & Mishkaat)

اگر آپؐ کسی مجلس میں کوئی چیز کھانے کی یا پینے کی کسی کو عنایت فرماتے تو داہنی طرف سے بیٹھنے والے کو پہلے دیتے اور بائیں جانب بیٹھنے والے کو اس کے بعد عنایت فرماتے۔ اگر داہنی والے نے اجازت دے دی تو یہ ترتیب بدل جاتی۔ بخاری و مسلم

If in a gathering the Prophet sallallahu alayhi wa sallam offered any food or drink he would first offer it to the person sat on his right and then to the person on his left. If the person on the right permitted it then this sequence would change. (Bukhari & Muslim)

آپ نبی کریم ﷺ جب کہیں مدعو ہوتے دعوت کے لیے اور کوئی شخص بغیر بلائے ساتھ ہو جاتا تو آپؐ اس کو ساتھ لےلیتے مگر داعی کے گھر پہنچنے پر داعی سے اس کے لیے اجازت طلب فرماتے تھے اور اجازت حاصل کرنے پر پھر اس کو ہمراہ رکھتے تھے۔ مدارج النبوت

When the Prophet sallallahu alayhi wa sallam was invited (for a meal) and if someone happened to join him without invitation, he would let that person come along with him but on arrival at the house of the host he would seek permission on behalf of the uninvited guest and only keep that person with him (for the meal) once permission from the host had been granted. (Madaarij-un-Nabuwwat)

اللہ سبحانہ و تعالٰی ہمیں نبی پاک ﷺ کی پیاری پیاری خوبصورت سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

I pray to Allah subhana wa ta’ala to grant us the taufeeq to have amal upon the beautiful and wonderful Sunnah of the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam.
4th Apr, 2021
margin-right:-5px