Bayans
Clips
Naat
Sheets
Store
Live

Sunnah of Travelling
12th September, 2021

Click for Urdu
Download Audio

Comments

12-09-21 ﷽ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد سفر کی سنتیں Sunnahs of Travelling آپ ﷺ سفر کی روانگی کے لیے جمعرات کا دن مناسب خیال فرماتے۔ بخاری و مسلم The Prophet sallallahu alayhi wa sallam would prefer Thursdays for commencing on a journey. (Bukhari & Muslim) حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کو سفر کیا کرو کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔ ابو داود Hadhrat Anas radhiallah anhu states that the blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam said, “Travel at night, since the earth is folded (traversed more easily) at night.” (Abu Dawud) سفر میں کہیں پڑاو کرنا ہو تو عادت شریفہ تھی کہ صبح کے وقت کوچ فرماتے۔ سفر میں کتنی ہی مدت کم ٹھہرتے جب تک نماز دوگانہ ادا نہ فرماتے وہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے۔ It was the blessed habit of the Prophet sallallahu alayhi wa sallam that if he stopped on a journey he would stop then continue the journey in the morning. No matter how short the stay he would not commence from any place until he had prayed 2 rak’ats Salaah. جب کوئی مسافر سفر سے واپس آتا تو آپ کی عادت شریفہ تھی کہ اس کی حاضری پر آپ معانقہ فرماتے اور اس کی پیشانی پر بوسہ فرماتے۔ زاد المعاد When a traveller would return from a journey, it was the blessed habit of the Prophet sallallahu alayhi wa sallam to welcome him by hugging him and kissing his forehead. (Zaad-ul-Ma’aad) سفر میں سواری کو زیادہ تیز رفتاری سے چلانا پسند فرماتے۔ The Prophet sallallahu alayhi wa sallam liked to travel at a fast speed on his mount during the journey. سفر سے واپسی پر آپؐ سیدھے مکان پر تشریف نہ لے جاتے بلکہ پہلے مسجد میں نماز دوگانہ ادا فرماتے۔ On returning from a journey, the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would not go into his home until he had first prayed two raka’ats prayer in the Masjid. جب آپؐ سفر میں جاتے تو کسی ایک صحابی کو اپنے ہمراہ سواری پر بٹھاتے۔ زاد المعاد When the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would go on a journey, he would take one Sahabi with him as a travel companion. حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک سواری آئی آپؐ اس پر سوار ہونے لگے اور اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا بسم اللہ جب سوار ہوئے تو کہا الحمد للہ اور پھر آپ نے دعا فرمائی: سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَلَنَا ھَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ۔ وَ اِنَّا اِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ۔ اس دعا کے بعد الحمد للہ اور اللہ اکبر تین تین بار آپؐ نے پڑھا اور پھر یہ دعا فرمائی: سُبْحَانَکَ اِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔ اور اس دعا کے بعد آپ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ہنس کر دکھایا تو پوچھا یا امیر المؤمنین آپ کس وجہ سے ہنسے؟ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ میں نے سرکار مدینہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ مشکوٰۃ Hadhrat Ali radhiallah anhu relates, that a conveyance was brought and as the Prophet sallallahu alayhi wa sallam began to mount it by putting his foot in the stirrup he recited ‘Bismillah’, and on being seated on the mount he said, ‘Alhamdulillah’ and then he made the dua: Subhanalladhi sakharalana hadhaa wa maa kunna lahu muqrineen wa inna ilaa rabbina la munqaliboon. Thereafter he recited: Alhamdulillah and Allahu akbar three times each and the made the dua: Subhanaka inni dhalamtu nafsi faghfirli fa innahu laa yaghfirudhunoobi illa anta After saying this Hadhrat Ali radhiallah anhu laughed. Those present said, “O Ameer-ul-mu’mineen, why did you laugh?” He replied, “I have seen the Master of Madeenah sallallahu alayhi wa sallam do this exact same thing.” (Mishkaat) جب آپؐ بلندی پر چڑھتے تو تین مرتبہ ﷲ اکبر فرماتے اور جب پستی میں سواری اترتی تو تین مرتبہ سبحان ﷲ فرماتے۔ When the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would ascend to higher ground he would recite Allahu akbar three times. And when his mount would descend to lower ground, he would recite Subhanallah three times. جس شہر یا گاؤں میں آپؐ قیام کا ارادہ فرماتے اور اس کو دور سے دیکھ لیتے تو آپؐ زبان مبارک پر تین مرتبہ فرماتے اللہھم بارکلنا فیھا When the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would make intention to stop in a town or village, then upon seeing the place from a distance he would recite three times with his blessed tongue: Allahumma bariklana feeha جب آپؐ سفر کرتے تو ابتدائی دن میں نکلتے اور ﷲ تعالٰی سے دعا فرماتے کہ آپؐ کی امت کو سویرے سویرے سفر کو جانےمیں برکت عطا فرما۔ زاد المعاد When the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would leave on a journey in the early morning, he would make the Dua: “O Allah bless my Ummah in this early morning journey.” (Zaad-ul-Ma’ad) اگر سفر میں تین آدمی ہوتے تو ان کو حکم فرماتے ایک کو امیر بنا لیں۔ زاد المعاد If three people were to travel together the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would tell them to appoint one among them as the Ameer (leader). آپ ﷺ ارشاد فرماتے جب سفر کی ضرورت پوری ہو جائے تو اسے اپنے گھر لوٹ آ جانا چاہیے۔ بلا ضرورت ٹھہرنا اچھا نہیں۔ The Prophet sallallahu alayhi wa sallam said that when the purpose of a journey is complete then return to your homes as it is not good to stay longer than required. سفر میں کتا اور گانے بجانے کی چیزیں رکھنے کی ممانعت فرماتے کیونکہ اس کی وجہ سے شیطان پیچھے لگ جاتے ہیں اور سفر کی برکت جاتی رہتی ہے۔ The Prophet sallallahu alayhi wa sallam would forbid taking a dog or music along on a journey as these would cause Shaytaan to follow. سفر سے واپسی پر آپؐ یہ دعا فرماتے: اٰئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔ On returning from a journey the Prophet sallallahu alayhi wa sallam would make the following dua: Aa’iboona taa’iboona aabidoona lirabbinaa haamidoon. سفر کے دوران ذکر کرتے رہنا چاہیے اس سے فرشتہ راستے پر حفاظت کرے گا اور اگر فضول باتیں اور گانا بجانا ہو تو شیطان شریک سفر ہو جاتا ہے۔ Continue to do dhikr during a journey, with this an angel will protect you on your way. And refrain from wasteful talk and music as Shaytaan joins in those things. دوران سفر اگر یہ پانچ سورتیں قل یا ایھا الکافرون، اذا جاء نصر ﷲ ، قل ھو ﷲ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ لی جائیں اور ہر سورۃ کو بسم ﷲ سے شروع کریں اور بسم ﷲ پر ختم کریں تو پھر اس سفر میں خیر و برکت رہتی ہے۔ During the journey recite the following five Surahs: Surah kaafiroon, Surah Nasr, Surah Ikhlaas, Surah Falaq and Surah An-Naas. And begin and end each Surah with Bismillah. By doing this the journey will be filled with blessings and goodness. سفر میں میں اگر کوئی ہمسفر ہو تو اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں کیونکہ قیامت میں سوال ہو گا کہ آپ نے ان کا حق کہاں تک ادا کیا۔ If you have a travel companion on your journey, then behave towards him with excellent manners because you will be questioned on the Day of Judgment regarding the rights of the travellers. ﷲ سبحانہ و تعالٰی ہمیں نبی پاک ﷺ کی تمام پیاری پیاری سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ I pray to Allah subhana wa ta’ala to grant us the taufeeq to have amal upon the beautiful Sunnah of the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam.
27th Sep, 2021
margin-right:-5px