Bayans
Naat
Sheets
Store
Live


Sunnah of Eating
6th April, 2021

Click for Urdu
Download Audio

Comments

06-04-21

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم ، اما بعد

کھانے کی مجلس بھی ذکراللہ سے خالی نہ ہو اس لیے کہ ذکراللہ سے خالی مجلس کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز وہ باعث افسوس ہو گی۔

When eating a meal together, it should not be devoid of dhikrullah. As it is the saying of the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam that those gatherings in which there is no dhikrullah will be a source of regret on the Day of Qiyamah.

فرمایا کہ مل کر کھانا کھایا کرو ، خدا کا نام لیا کرو اور اللہ تمہیں برکت دے گا۔ ابو داود

The Prophet sallallahu alayhi wa sallam said, “Eat together, mention the Name of Allah, and Allah will grant you blessing.” (Abu Dawud)

اگر اکیلا ہو تو ہر ہر لقمے توڑنے پر بسم اللہ اور اس کے کھا لینے پر الحمد للہ کہے۔

If you are alone then say ‘Bismillah’ on breaking each morsel and ‘Alhamdulillah’ upon eating it.

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی بندے کی اس بات کو بہت ہی رضامندی ظاہر فرماتے ہیں کہ جب ایک لقمہ کھا لے یا ایک گھونٹ پانی پیے تو حق تعالٰی شانہ کا اس پر شکر ادا کرے:

اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ وَ لَکَ الشُّکْرُ

شمائل ترمذی

It has been narrated by Hadhrat Anas radhiallah anhu that Allah is very pleased with a person when he shows gratitude to Allah upon eating a morsel of food or drinking a sip of water: Allahumma lak-alhamdu wa lak-ashukr. (Shamaa’il-e-Tirmidhi)

کھانا کھاتے وقت کسی دوسرے کو شریک طعام ضرور کرے اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کھانا کبھی تنہا تناول نہیں فرماتے تھے۔

When eating, invite someone to join you because the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam never ate a meal alone.

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: شر الناس منع اکل وحدہ ۔ سب سے برا آدمی وہ ہے جو اکیلا کھائے۔ کشف المحجوب

It is a saying of the Prophet sallallahu alayhi wa sallam: Sharr-un-naas mana’a akala wahdahu. The worst person is the one who eats alone. (Kashf-ul-Mahjoob)

ایک حدیث میں مل کر کھانے کی ترغیب آئی ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو کو اور دو کا چار کو اور چار کا آٹھ کو کافی ہو سکتا ہے۔ مسلم

In one hadeeth, eating together has been encouraged with the words that one person’s food is enough for two, food for two is enough for four and food for four is enough for eight. (Muslim)

لہٰذا کسی مہمان یا کسی حاجت مند کے آنے پر تنگی محسوس نہ کی جائے بلکہ خوشی کے ساتھ اسے شریک طعام کر کے برکت حاصل کی جائے۔

Hence a person should not feel any distress upon the arrival of a guest or someone in need. In fact a person should happily include them in the meal and attain blessings as a result.

آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کھانے میں جتنے ہاتھ جمع ہوں گے اتنی ہے زیادہ برکت ہو گی۔

It is a saying of the Prophet sallallahu alayhi wa sallam that the more hands that partake in a meal the more blessings there will be.

تین چیزیں ایسی ہیں جس کا بندے سے حساب نہیں لیا جائے گا: ایک سحری کے کھانے کا ، دو افطار کے کھانے کا اور تیسرا وہ کھانا جو دوستوں کے ساتھ کھایا گیا ہو۔ کیمیائے سعادت

There are three things for which a person will not be accountable: One, the suhoor meal, two, the iftaar meal and thirdly that meal which one eats with his friends. (Keemya-e-Sa’aadat)

اللہ سبحانہ و تعالٰی ہمیں نبی پاک ﷺ کی پیاری پیاری عظیم سنتوں پہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

I pray to Allah subhana wa ta’ala to grant us the taufeeq to have amal upon the great and beautiful Sunnah of the Blessed Prophet sallallahu alayhi wa sallam.
7th Apr, 2021
margin-right:-5px